کبھی اے نوجواں مسلم تدبّر بھی کیا تو نے

*کبھی اے نوجواں مسلم تدبّر بھی کیا تُو نے؟*✍🏻کالم نگار :*مولانا محمد اویس رضا مدنی عطاری*معلّم : جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کھرڑیانوالہ (فیصل آباد)0348-4172418مشہور ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں کسی نے کرتب دکھانے کی اجازت مانگی، اجازت دے دی گئی، اس نے دربار کے بیچوں بیچ ایک سوئی گاڑ دی اور دس قدم پیچھے چلا گیا۔ ہاتھ میں کچھ سوئیاں تھیں جنہیں وہ نشانہ لگا کر پھینکنے لگا، دیکھنے والے مبہوت رہ گئے کہ اس کی پھینکی ہر سوئی دور گڑی سوئی کے ناکے میں داخل ہو کر پار جاتی تھی۔ خلیفہ ہارون الرشید نے یہ کمال دیکھا تو حکم دیا کہ “اسے دس دینار دو اور دس کوڑے مارو”، انعام اور دس کوڑوں کی وجہ پوچھی گئی تو کہا: “انعام اس کے نشانے کی سچائی پر اور سزا اس لیے کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسے کام میں مہارت کے لیے ضائع کیا جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔” واہ ! کیسی سوچ تھی بادشاہوں کی ۔لیکن آج جب نوجوانوں کو دیکھتا ہوں کہ انوکھی سیلفی بنانے کے لیے کوئی پانی کی ٹینکی پر چڑھا ہے، کوئی اونچی بلڈنگ سے لٹک رہا ہے، کوئی عجیب و غریب کپڑے یا ہیئر اسٹائل بنا رہا ہے، کوئی پب جی اور دوسرے موبائل گیمز میں جیت کر یا اعلیٰ اسکور بنا کر مگن ہے اور اسے اپنا کارنامہ بتا رہا ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی دل میں خیال آتا ہے کہ اگر آج خلیفہ ہارون الرشید جیسے ہوتے تو وہ ہمارے نوجوانوں کو کیا کیا انعام دیتے؟آج سماج میں زندگی تباہ کرنے کے ہزار جال بچھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو گیم، ٹی وی، سنیما، موبائل انٹرنیٹ اور اس میں فحش مناظر ، نئی نسل کے حسین اور کارآمد اوقات مہمل ضائع ہو رہے ہیں۔ تعلیم کا زمانہ حقیقت میں بننے یا بگڑنے کا زمانہ ہے۔ پڑھنے والے نوجوان قوم کا مستقبل اور ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کے اوقات کا ایک بڑا حصہ چائے خانوں میں، ہوٹلوں میں، فضول مجلسوں میں، گھنٹوں گپ بازی میں گزرے تو بھلا وہ ملت کیسے سر اٹھا کر جی سکتی ہے؟ کسی ملت کا مستقبل کیا ہوگا اس کا اندازہ کرنا ہو تو اس ملت کی نوجوان نسل دیکھ لو، آپ آسانی سے جان جاؤ گے کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کیا ہمیں احساس بھی ہے کہ ہم کن خطرات سے دوچار ہیں؟ مصیبت سامنے ہو تو دو طرح کا ردعمل بالعموم ظاہر ہوتا ہے۔ یا تو بہادری سے مقابلہ کیا جائے، یا شتر مرغ کی مانند سر چھپا لیا جائے۔ شاید آج ہمارے شترموغوں نے اسی لیے موبائلوں، فلموں، گانوں اور معاشقوں میں سر گھسا رکھا ہے۔ دیکھنے کی بات ہے کہ یہ نشہ کب اترتا ہے۔ حالات کی مار سے یا اللہ کی پکار سے۔ اللہ پاک ہمیں حقیقی سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین*کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے**وہ کیا گردوں تھا کہ جس کا ہے تو ٹوٹا ہوا تارا**تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی**کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیارہ*